پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر (PKLI&RC) میں “ورلڈ کڈنی ڈے”کے حوالے سے ایک واک کا اہتمام کیا گیا۔ اس واک کامقصد عوام میں گردوں کے امراض سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر بارے آگہی فراہم کرنا تھا۔ واک میں میڈیکل پروفیشنلز، ہسپتال کے سٹاف سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

پی کے ایل آئی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر عارف محمود صدیقی اور ڈائریکٹر میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر حافظ اعجاز احمد نے واک کے شرکاء کو گردوں کے امراض اور اُن سے بچاؤ کے بارے میں آگہی دی۔دنیا بھر میں گردے کی بیماریوں کی شرح آٹھویں نمبر پر ہے اور پاکستان میں سالانہ 20,000لوگ گردوں کی بیماریوں سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ملک میں گردوں کی دائمی یا شدید بیماری تیزی سے بڑھتی ہوئی بیماریوں میں سے ایک ہے۔ گردے کی بیماریوں کے کچھ بڑے عوامل میں گندے پانی اور غذا کا استعمال، پانی کم پینا، ذیابیطس، موٹاپا، درد کی ادویات کا زیادہ استعمال، سیلف میڈیکیشن، ہائپر ٹینشن اور گردے کی پتھریاں شامل ہیں۔ پی کے ایل آئی میں جگر اور گردے کی پیوندکاری اور دیگر میجر سرجریاں جن میں پتھری نکالنے کی لیزر سرجری، لیور ریسیکشن، مثانے کے ٹیومر کی سرجری کامیابی سے جاری ہیں۔

پی کے ایل آئی اب تک مریضوں کو 25لاکھ سے زائد خدمات فراہم کرچکا ہے، جس میں اعلیٰ تربیت یافتہ ماہرین کی جانب سے 5000سے زائد کامیاب میجر اور مائنرسرجریاں بشمول 160کڈنی اور لیور ٹرانسپلانٹ شامل ہیں۔ مریضوں کو35,000سے زائد ڈائلیسز کی خدمات اس کے علاوہ ہیں۔ٹرانسپلانٹ سرجریوں سمیت اعلیٰ درجے کی سہولیات فراہم کرنے کے علاوہ، پی کے ایل آئی اپنے مشن کے مطابق گردوں اور جگر کی بیماریوں کو کم کرنے میں مدد کیلئے حفاظتی اقدامات کے بارے میں شعور پیدا کرنے کی کوشش جاری رکھتا ہے۔

لوگوں کے ایک بڑی تعداد نے واک میں بھرپور شرکت کرکے اس کو کامیاب بنایا۔ انہوں نے دلچسپی سے طبی ماہرین کی گردوں کے بچاؤ کے اقدامات اور پی کے ایل آئی میں گردے اور جگر کے جدید ترین علاج کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ پاکستان میں گردے کی بیماریوں کی بڑی شرح کو کم کرنے کیلئے، پی کے ایل آئی اپنے مشن کے مطابق لوگوں کو علاج کیلئے بلاتفریق جدید ترین علاج فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان بیماریوں کی روک تھام کے بارے میں آگہی پھیلانے میں کامیابی سے گامزن ہے۔

Leave a Reply