لاہور ( )ٹائیفائیڈ سرنجوں کو مارکیٹ میں فروخت کرنے کے سکینڈل سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت کے مافیا نے ثبوت مٹانے کے لئے مال مقدمہ کو ہی آگ لگا دی، گنجان آباد علاقے میں واقع سکریپ کے گودام میں مبینہ طور پر اچانک آگ بھڑک اٹھی جس وہاں پڑا ہوا میڈیکل ویسٹ جل کر راکھ ہو گیا۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ محکمہ کے با اثر اور سیاسی پشت پناہی رکھنے والے افسران اس گھناﺅنے کام میں جہاں انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں وہیں اپنے مفاد کی خاطر لاکھوں کی چاندی بھی بنا رہے ہیں ۔یاد رہے کہ چند روز قبل ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی گلبرگ ٹاﺅن کے افسران کی جانب سے کباڑیے کو 15من سے سرنجیں فروخت کی گئیں تھیں

محکمہ صحت کے مافیا نے ثبوت مٹانے کے لئے مال مقدمہ کو آگ لگا دی 1

نشاندہی پر محکمہ صحت کے افسران اور پولیس نے واقع پر پہنچ کو سکریب کے گودام کو سیل کر دیا تھا جس کے بعد سیکرٹری ہیلتھ پرائمری اینڈ سکینڈری کیپٹن (ر)محمد عثمان کی جانب سے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ملازمین کے خلاف انکوائری کرنے کا حکم دیا تھا ۔ محکمہ صحت ذرائع کا کہنا تھا کہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گلبرگ ٹاﺅن ڈاکٹرفراز اور ٹائیفایڈ مہم کے انچارج سلمان خان کے خلاف اس سے قبل بھی متعدد بداعنوانی کی انکوائریاں ہو چکی ہیں ۔محکمہ صحت ذرائع نے مزید بتایا کہ مجرمانہ غفلت ثابت ہونے پر متعلقہ افسران اور ٹھیکیدار کے خلاف کار سرکار میں مداخلت، شواہد کو ضائع کرنا ،ماحول کو نقصان پہنچانے اور گنجان آباد علاقے میں آگ کے ذریعے دہشت پھیلانے کی وجہ سے دہشت گردی کی دفعات لگائی جاسکتی ہیں ۔دوسری جانب محکمہ صحت کی جانب سے کباڑیے کو فروخت کی جانے والی سرنجز اور پولیو، ٹائیفایڈ وائلزکے نمونے پہلے ہی لیے جا چکے ہیں ۔

محکمہ صحت کے مافیا نے ثبوت مٹانے کے لئے مال مقدمہ کو آگ لگا دی 2

Leave a Reply